حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم نے رہبرِ شہید انقلاب کی تاریخی تشییع جنازہ میں ایران اور عراق کے لاکھوں افراد کی بھرپور شرکت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی یہ عظیم حاضری دشمنانِ اسلام و ایران کے خلاف خونِ شہداء کے انتقام کے عزم کی علامت بن گئی ہے، اور امت کے شرعی، قانونی اور انسانی حقِ انتقام کو پوری سنجیدگی کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔
جامعۂ مدرسین نے اپنے بیان میں کہا کہ لاکھوں افراد نے رہبرِ شہید، آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ کی تشییع میں شرکت کرکے امام و امت کے ناقابلِ شکست رشتے کا ایک بار پھر دنیا کے سامنے مظاہرہ کیا۔ بیان کے مطابق، رہبرِ شہید کو الوداع کہنا کسی اختتام کا نہیں بلکہ ملت کی نئی بیداری، مجاہدت اور مزاحمت کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
بیان میں رہبرِ شہید کے اس فرمان کا بھی حوالہ دیا گیا کہ اہلِ ایمان کا غم، حضرت سیدالشہداءؑ کی عزاداری کی طرح زندگی، حرکت، پیشرفت اور جدوجہد کا سرچشمہ ہوتا ہے، نہ کہ مایوسی اور گوشہ نشینی کا۔
جامعۂ مدرسین نے کہا کہ رہبرِ شہید کے مکتب اور افکار سے پھوٹنے والی بیداری کی یہ تحریک اب ایک عظیم طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے جو استکباری نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ رہبرِ شہید کا پاک خون عالمِ اسلام کے لیے بیداری اور جہاد کا پیغام ہے۔
بیان میں ایران اور عراق کے عوام سمیت ان تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے تشییع کے شاندار اور تاریخی اجتماعات کے انعقاد میں کردار ادا کیا۔
جامعۂ مدرسین نے اپنے پیغام کے اختتام پر رہبرِ انقلاب، آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی قیادت سے تجدیدِ بیعت کرتے ہوئے عوام سے ولایت کے راستے پر ثابت قدم رہنے اور اپنے انقلابی و ایمانی جذبے کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ عوام نے اپنے پرجوش نعروں اور عظیم شرکت کے ذریعے تشییع کو خونِ شہداء کے انتقام کے عزم میں تبدیل کر دیا ہے، اور امت کے شرعی، قانونی اور انسانی حقِ انتقام کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ